مطالعہ نیا پاکستان




نیا پاکستان اگست 2014 میں قائد اعظم ثانی کپتان خان رحمتہ اللہ علیہ کی قیادت میں قائم ہوا۔ نیا پاکستان اسی روز وجود میں آگیا تھا جس روز پرانے پاکستان نےپہلا ورلڈ کپ جیتا تھا۔قائد اعظم ثانی کپتان خان رحمتہ اللہ علیہ کی ان تھک محنت اور لگن کی وجہ سے پرانے پاکستان کے بلے برداروں کو شریف خاندان کی غلامی سے نجات ملی اور آج وہ آزادی سے ہر طرف انقلاب برپا کرتے پھرتے ہیں۔نئے پاکستان کا خواب حکیم البشارات علامہ طاہرالقادری نے دیکھا اور خطبہ ماڈل ٹاون میں پہلی بار نئے پاکستان کے قیام کا تصور دیا؛
147میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ ماڈل ٹاون، زمان پارک اور خیبرپختونخواہ آزاد اور خود مختار اکائیوں کے طور پر شریف تسلط میں یا اس سے باہر ایک جداگانہ وجود قائم کر سکتے ہیں۔
دوقومی نظریہ
پرانے پاکستان میں شروع ہی سے دو قومیں مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف بستی تھیں جن کے نعرے، مطالبات، رہنما، فیس بک اکاونٹ اور انتخابی نشان سب ایک دوسرے سے علیحدہ تھے۔ ایک گروہ جو مسلم لیگ (ن) میں شامل تھا اور شیر پر مہریں لگاتے تھے اور دوسرے تحریک انصاف کے نوجوان جو بلے سے شیر کا شکار کیا کرتے تھے۔مسلم لیگ (ن) نے اپنے اکثریتی ووٹوں اور نشستوں کی بنیاد پر تحریک انصاف کو غلام بنانے کی کوشش کی ، تاہم طالبان خان رحمتہ اللہ علیہ نے علامہ طاہر القادری کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لئے اپنی جدوجہد کا آغاز کیا اور تحریک انصاف کو آزادی دلائی۔
تحریک مقاطعہ انتخابات
2007 میں وائسرائے پرویز مشرف کے دور میں ہونے والے انتخابات کے دوران تحریک انصاف اور مسلم لیگ(ن) نے مل کر انتخابات کے مقاطعہ کی تحریک چلائی ۔ نواز شریف نے تحریک انصاف کو کاغذات نامزدگی جمع کرانے سے منع کیا اور جمع کرائی گئی نامزدگیاں واپس لیتے ہوئے انتخابات کا مقاطعہ کرنے کی ہدایت کی جس کے بعد تحریک انصاف کے ہزاروں امیدوار اپنے کاغذات جمع کرائے بغیر انتخابات سے باہر ہو گئے۔
سانحہ ماڈل ٹاون
ماڈل ٹاون میں منہاج القرآن کے نہتے معصوم طالب علموں پر گولیاں چلا کر سینکڑوں معصوم طالب علموں، بچوں اور عورتوں کو شہید کر دیا گیا، جس کے بعد کنٹینر لگا کر پورے ماڈل ٹاون کو بند کر دیا گیا۔
مسلم لیگی وزارتیں
مسلم لیگ (ن) 2013 کے انتخابات میں تحریک پاکستان کودھاندلی سے شکست دے کر حکومت میں آئی،مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے دوران تحریک انصاف کے کارکنوں کے جلسوں کے دوران حکومت ناچ گانے کے مفت پروگرام منعقد کرتی رہی جس سے انقلابی سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور تحریک انصاف کے کارکنوں کو زبردستی ٹیکس اور بجلی کے بل دینے پر مجبور کیا جاتا رہا اور پٹرول پمپ بند کر کے انقلابی موٹرسائیکلوں کو روکنے کی کوشش کی گئی، تاہم انقلابی نوجوانوں نے فیس بک پر اپنی جدوجہد جاری رکھی۔
انتخابات 2013 میں دھاندلی کے ثبوت

مفروض اے سازشی کی تحقیق کے مطابق انتخابی دھاندلی کے درج ذیل ثبوت سامنے آچکے ہیں:
1 ۔ انتخابات 2013 کے دوران پچیس کروڑ عید مبارک والے جعلی بیلٹ پیپر چھاپے گئے۔
2 ۔ اتفاق فاونڈری کی فولادی بھٹی میں ربڑ کی ایسی مہریں بنائی گئیں جن کے نشان صرف شیر والے ووٹوں پر ظاہر ہوتے ہیں۔
3 ۔ مسلم لیگ (ن) کے پاس ہر حلقہ میں پانچ سو ایسے گلو بٹ اور پانچ سو ایسے پومی بٹ تھے جن کے ہر ہاتھ میں انگلیوں کی بجائے پانچ پانچ انگوٹھے تھے، یہی وجہ ہے کہ انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق نہیں ہو سکتی۔
4 ۔ جن حلقوں میں تحریک انصاف کے امیدوار کھڑے نہیں ہوئے وہاں بیلٹ پیپرز پر تحریک انصاف کا انتخابی نشان 147بلا148 جان بوجھ کر نہیں چھاپا گیا، جس سے تحریک انصاف ڈیڑھ سے زائد حلقوں میں جیت نہیں سکی۔
5 ۔ دھاندلی کے اصل ذمہ دار بالی ووڈ کے ایجنٹ راحت فتح علی خان ہیں ، جنہوں نے مسلم لیگ (ن) کا انتخابی ترانہ تحریک انصاف کے انتخابی گیت سے بہتر گایا ، انہیں اس کی کڑی سزا دی جانی چاہئے۔
6 ۔ انتخابات کے دوران جو مقناطیسی سیاہی استعمال کی گئی اس میں حمزہ شہباز کی نگرانی میں ایسے مقناطیسی ذرات استعمال کئے گئے جو شمالاً جنوباً کی بجائے شرقاً غرباً مقناطیسی میدان بناتے ہیں۔ (دیکھیے جنرل سائنس لازمی، باب ۳ ؛ نوازشریف کا مقناطیسی میدان)
دھاندلی کا طریقہ کار
ووٹوں کی گنتی کے دوران ٹھیک پانچ بج کر پندرہ منٹ پر پاکستان بھر میں تحریک انصاف کے تمام پولنگ ایجنٹ جب تین منٹ کے لئے پیشاب کرنے گئے تو ہر حلقہ کے گلو بٹ اور پومی بٹ نے تمام بیلٹ باکسز میں عید مبارک والے جعلی نوٹوں پر اتفاق فاونڈری میں تیار کی گئی مہروں سے جعلی مقناطیسی سیاہی کے نشانات لگا کر مسلم لیگ (ن) کو جتا دیا۔ پتہ چلانا چاہئے کہ پانچ بج کر پندرہ منٹ پر تحریک انصاف کے تمام پولنگ ایجنٹ اکٹھے پیشاب کرنے کیوں بھیج دیے گئے۔انتخابات کے دوران ایسے ریٹرننگ افسر تعینات کئے گئے جنہیں سو سے آگے گنتی نہیں آتی تھی، اس لئے انہوں نے اندازے سے ووٹ گنے بغیر نتائج لکھے۔
قراردادنیا پاکستان
نئے پاکستان کی قرارداد طاہرالقادری پارک جسے پہلے زمان پارک کہا جاتا تھا، میں منظور کی گئی۔ آج اس جگہ مینار نیا پاکستان قائم ہے اور حقیقی آزادی اور نئے پاکستان کی یاد دلارہا ہے۔قراردادشیرِ بغاوت جاوید ہاشمی نے پیش کی جس کی تائید شاہ محمود قریشی، محمود الرشید اور شفقت محمود نے کی۔
تحریک نیا پاکستان
تحریک نیا پاکستان کا آغاز ماڈل ٹاون اور زمان پارک سے دوپہر تین بجے ہوا جو 40 گھنٹے میں اسلام آباد پہنچی ۔ شریف حکم رانوں کے ظلم کی وجہ سے ایک لاکھ میں سے ننانوے ہزار نو سات سو پچاس موٹر سائیکل پنکچر ہو گئے ۔ احتجاج سے خوفزدہ ہو کر حکومت نے دس لاکھ انقلابیوں میں سے نولاکھ پچاس ہزار گرفتار کر لئے جس کے باوجود اسلام آباد میں دس لاکھ میں سے نو لاکھ انقلابی پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، جن کا ساتھ دینے کو خیبر پختونخواہ سے ساٹھ ہزار انقلابی نیا پاکستان بنانے کو پہنچ گئے جس کے بعد انقلابی مجمع کی کل تعداد بیس لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ انقلابی مارچ نے اسلام آباد میں دھرنا دیا جہاں قائد اعظم ثانی نے موسم کی سختیاں اپنے کارکنان کے ساتھ برداشت کیں اور بالآخر ریڈ زون میں داخل ہونے تک حکومتی ظلم کے باعث صرف پانچ ہزار کارکن پارلیمان کے سامنے پہنچ پائے۔
اسی دوران مفکر نیا پاکستان حکیم البشارات علامہ طاہر القادری کے انقلاب مارچ نے آزادی مارچ کے ساتھ جدوجہد کا آغاز کردیا جس سے شریف خاندان کی حکومت ختم کرنے اور نیا پاکستان بنانے میں مدد ملی۔
قائد اعظم ثانی نے پاکستان بننے سے پہلے پہلی انقلاب ساز اسمبلی سے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا؛
147آپ کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہو، مسلم لیگ (ن)سے ہو،ایم کیو ایم ، جماعت اسلامی یا کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو، آپ آزاد ہیں کہ آپ تیر ،شیر، لالٹین، کتاب یا پتنگ کسی بھی نشان پر مہرلگانے یاکسی کے حق میں بھی ٹویٹ کریں ، ریاست کاسیاست اور انتخابات سے کوئی تعلق نہیں۔148
نیا پاکستان بنانے کے لئے دن رات کنٹینر پر سونے ،بارش میں بھیگنے اور مسلسل تقریریں کرنے کی وجہ قائد اعظم ثانی کپتان خان کی طبعیت ناساز رہنے لگی 
دوبارہ الیکشن، انتخابی اصلاحات ، غیر جانبدار نگراں حکومت ،الیکشن کمیشن کی تشکیل نو، دھاندلی کرنیوالوں پر آرٹیکل 6نافذ کیا جائے وزیراعظم ہاؤس جانے لگا تھا پھر
میاں صاحب پر ترس آگیا، وہ عوام کے خوف سے فوج کے پیچھے چھپے ہوئے ہیں،دھرنے سے خطاب پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے حکومت سے بات چیت کے آغاز کیلئے وزیراعظم نوازشریف کے استعفے سمیت 6مطالبات پیش کر دیے۔پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے آزادی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا پہلا نکتہ نواز شریف کا استعفیٰ ہو گا ۔ انہوں نےکہا کہ ہماراپہلا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم فوری مستعفی ہوجائیں ، دوسرامطالبہ دوبارہ الیکشن کرائے جائیں، تیسرامطالبہ انتخابی اصلاحات کی جائیں ، چوتھا مطالبہ سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے 35 پنکچروں والی نہیں بلکہ غیر جانبدار نگران حکومت بنائی جائے ،پانچواں مطالبہ سارے الیکشن کمیشن ارکان مستعفی ہوں اور الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کی جائے ،چھٹا مطالبہ الیکشن میں دھاندلی کرانے والوں کا احتساب کیا جائے۔انہوں نے نواز شریف کو پاکستان کا حسنی مبارک قرار دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کے ہوتے ہوئے انصاف نہیں مل سکتا، مجھے صرف سپریم کورٹ ہی انصاف دے سیتی ہے، سپریم کورٹ جو فیصلہ کرے گی قبول ہوگا ۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم نواز شریف اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں اور 2013ء کے الیکشن میں جن جن لوگوں نے نواز شریف کے ساتھ مل کر دھاندلی کی، ان پر آرٹیکل 6 نافذ کیا جائے۔ نواز شریف کے استعفیٰ سے پہلے حکومت سے کوئی بات نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ میں وزیراعظم ہاؤس جانے لگا تھا ، لیکن پھر میاں صاحب پر ترس آ گیا، نواز شریف عوام کے خوف سے فوج کے پیچھے چھپے ہوئے ہیں ۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین نے کہا کہ آج سے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے موجود یہ چوک آزادی اسکوائر بن گیا ہے، ہم اس وقت تک آزادی اسکوائر میں بیٹھیں گے جب تک نوازشریف وزیراعظم کے عہدے سے استعفیٰ نہیں دے دیتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک نیا پاکستان دیکھ رہے ہیں نئے پاکستان میں ہم نئی جمہوریت لائیں گے، انصاف کا نیا قانون بنائیں گے جس میں ہر ایک کو انصاف ملے ، نواز شریف کے استعفے کے لیے ایک سال بھی انتظار کرنا پڑا تو کروں گا ، استعفے تک اسلام آباد رہوں گا ،اکیلا ایک سال بھی کنٹینر میں سونا پڑا تو سوؤں گا ۔ انہوں نے کہاکہ میر شکیل الرحمن نے پہلے فوج ،پھر ہمارے خلاف مہم چلائی ،تمام پاکستانی شکیل الرحمن کے ٹی وی چینل اوراخبار کا بائیکاٹ کریں ،جو دل سے پاکستانی ہو گا ان کا اخبار نہیں خریدے گا ،میر شکیل الرحمن پیسے کا پجاری ہے اور 

Share